کراچی میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کی فریقین کی 31ویں کانفرنس سے قبل پری کوپ 31ورکشاپ کا انعقاد
کراچی میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کی فریقین کی 31ویں کانفرنس سے قبل پری کوپ 31ورکشاپ کا انعقاد
Posted on: 31 Oct 2026 Tags:کراچی میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کی فریقین کی 31ویں کانفرنس سے قبل پری کوپ 31ورکشاپ کا انعقاد
سندھ کے 13 کاربن منصوبوں میں 330.13 ملین ٹن اخراج میں کمی کی صلاحیت، 62.15 ملین ڈالر کے 6 ترجیحی موسمیاتی منصوبے بھی تیار، سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عُقیلی
کراچی(31 اکتوبر) موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور ماحول کے تحفظ کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے سے متعلق کراچی سینٹر فار کلائمیٹ چینج اور کاٹی کے اشتراک سے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کی فریقین کی 31ویں کانفرنس آف دی پارٹیز(کوپ 31) سے قبل ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سیکریٹری ماحولیات سندھ فیصل احمد عُقیلی، جسٹس لاہور ہائی کورٹ جواد حسن ، کراچی سینٹر فار کلائمیٹ چینج کے بانی ڈائریکٹر بلنت سہیل سمیت سرکاری اداروں، سرمایہ کاروں، ماحولیاتی ماہرین اور دیگر متعلقہ شعبوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ورکشاپ میں شرکاء نے صاف پانی کی فراہمی ، زرعی زمینوں اور باغات کی بحالی،صنعتی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں کمی، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور کاربن منصوبوں میں شفافیت سمیت مختلف ماحولیاتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ڈائیلاگ کے آغاز میں کراچی سینٹر فار کلائمیٹ چینج کے بانی بلنت سہیل نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق کیےگئےوعدوں کوعملی منصوبوں اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسے صنعتی اور ساحلی شہر میں پانی، توانائی اور کاربن کے شعبوں میں مؤثر اقدامات اور نجی شعبے کی شمولیت ناگزیر ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس جواد حسن نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مؤثر ماحولیاتی قوانین،عوامی مفاد کے تحفظ اور واضح قانونی ضابطہ کار کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قانونی استحکام ضروری ہے۔ ایسے قوانین اور پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی جو ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ سرمایہ کاروں کو بھی واضح رہنمائی اور اعتماد فراہم کریں۔ اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عُقیلی نے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے، ماحول کے تحفظ، پالیسی سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور عملی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ کاربن مارکیٹ کے فروغ کے لیے 13 منصوبوں کی منظوری دے کر وفاقی وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی کو ارسال کیے ہیں جن کے ذریعے 330.13 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج میں کمی لانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان منصوبوں میں ونڈ پاور، توانائی کے شعبے میں اخراج میں کمی، زرعی فضلے سے بائیو چار کی تیاری، میتھین گیس کے اخراج میں کمی اور پائیدار جنگلات کے منصوبے شامل ہیں، ساتھ ہی ساتھ سندھ حکومت نے 62.15 ملین ڈالر کے 6 ترجیحی موسمیاتی منصوبے بھی تیار کیے ہیں جن میں پانچ اضلاع میں بائیو گیس منصوبے، زیریں سندھ میں فلوٹنگ ایگریکلچر، اینٹوں کے بھٹوں سے کاربن کے اخراج میں کمی اور موسمیاتی مالیات کے شعبے میں استعداد کار بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔ فیصل احمد عُقیلی نے بتایا کہ سندھ کو شدید گرمی، سیلاب، پانی کی قلت، سمندر کی سطح میں اضافے اور ساحلی علاقوں میں کھارے پانی کی دراندازی جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور عالمی شراکت داروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قومی اہداف (NDC 3.0) کے لیے سندھ کی صوبائی سفارشات تیار ہیں جبکہ کاربن کے اخراج کی نگرانی اور منصوبوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے ڈیجیٹل کلائمیٹ رجسٹری اور ڈیش بورڈ پر بھی کام جاری ہے۔ سندھ حکومت ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کے ساتھ صنعتی شعبے کی رہنمائی اور ترقی پر بھی یقین رکھتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے مختلف تعلیمی اداروں کے ساتھ تحقیق کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے ہیں۔ شرکاء نےسندھ حکومت کی ماحولیاتی اقدامات اورپالیسیوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نومبر میں ہونے والی کوپ 31 کانفرنس میں صوبے کے تجربات اور اقدامات موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مثبت پیش رفت کا ذریعہ بنیں گے۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے فریقین کی 31ویں کانفرنس 9 سے 20 نومبر 2026 تک ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہوگی جس میں دنیا بھر کے ممالک کے سربراہان، حکومتی نمائندوں، ماہرین اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ پاکستان بھی کانفرنس میں اپنی قومی موسمیاتی ترجیحات اور مؤقف پیش کرے گا، جبکہ پاکستانی وفد میں وفاقی اور صوبائی سطح کی نمائندگی بھی شامل ہوگی۔ کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، ماحول کے تحفظ، موسمیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری، ماحولیاتی موافقت اور عالمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
Back