جامعہ کراچی اور سیپا کا ماحولیاتی بہتری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کا عہد
جامعہ کراچی اور سیپا کا ماحولیاتی بہتری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کا عہد
Posted on: 04 Dec 2025 Tags:کراچی (پریس ریلیز) – 3 دسمبر 2025ء
جامعہ کراچی اور سیپا کا ماحولیاتی بہتری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کا عہد
شجرکاری تقریب میں ڈی جی سیپا کا جذباتی خطاب، ماحولیاتی تباہی کے خلاف فوری اور مشترکہ جدوجہدکی پیشکش
کراچی: سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کے ڈائریکٹر جنرل وقار حسین پھلپوٹو نے جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں منعقدہ شجرکاری مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے سیارے کی بقا داؤ پر لگ چکی ہے۔ ایک ایک درخت ہماری سانسوں کا ضامن ہے، ہمارے بچوں کے مستقبل کا تحفظ ہے اور زمین کے زخموں پر مرہم ہے۔ درخت صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن فراہم نہیں کرتے بلکہ شہروں کا درجہ حرارت 4 سے 6 ڈگری تک کم کرتے ہیں، زمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں، سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں کو کمزور کرتے ہیں، زیر زمین پانی کو ری چارج کرتے ہیں اور لاکھوں جانداروں کے لیے رہائش گاہ مہیا کرتے ہیں۔ ایک عالمی تحقیق کے مطابق گزشتہ 50 سالوں میں دنیا نے اپنے 50 فیصد سے زائد جنگلات کھو دیے ہیں اور اگر یہی رفتار رہی تو 2050ء تک ہمارے پاس سانس لینے لائق ہوا بھی نہ رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے تینوں عالمی سانحات کا سب سے سستا، سب سے پائیدار اور فطرت کے مطابق حل صرف اور صرف شجرکاری ہے۔ سندھ بھر میں سیپا نے گزشتہ چند برسوں میں کاروباری اداروں، تعلیمی اداروں، این جی اوز اور عوام کے اشتراک سے دو لاکھ سے زائد مقامی انواع کے پودے لگوائے ہیں جو محض لفاظی نہیں بلکہ ہمارے پاس اس کا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ جن میں سے 92 فیصد سے زیادہ کامیابی سے نشوونما پا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض کاغذی نہیں بلکہ زمین پر اگتے ہوئے سبزے کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔
ڈی جی سیپا نے جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کی اس خوبصورت شجرکاری مہم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ابلاغ عامہ کے طلبہ و طالبات وہ آواز ہیں جو قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ سکتی ہے۔ ہم سیپا کی طرف سے نہ صرف نچلی سطح کی ہر ماحولیاتی سرگرمی کو مکمل سپورٹ دیں گے بلکہ شعبہ ابلاغ عامہ کو جتنے مطلوب ہوں مفت پودے فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ کوڑا کرکٹ کے سائنسی انتظام، ری سائیکلنگ پلانٹس کی تنصیب، سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے، واٹر ری سائیکلنگ اور شجرکاری کے لیے ٹریٹڈ ویسٹ واٹر کے استعمال کے لیے مکمل تکنیکی رہنمائی، ٹریننگ ورکشاپس اور فیلڈ وزٹس کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کو ماحولیاتی ڈیٹا بیس کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، ماحولیاتی جرنلزم ورکشاپس اور گرین کیمپس سرٹیفیکیشن کے لیے بھی ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ اب انفرادی کوششیں کافی نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جس میں ہر ادارہ، ہر طالب علم اور ہر شہری کو ایک سرگرم کارکن کی طرح متحد ہو کر لڑنا ہوگا۔ آج یہاں لگنے والا ایک ایک پودا آنے والی نسلوں کے لیے آکسیجن، سایہ اور امید کا پیغام ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اپنے صدارتی خطاب میں سیپا کی ماحولیاتی تعاون کی پیشکش کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیپا کا یہ عزم جامعہ کراچی کے لیے خوش آئند ہے۔ آج ہمارے سیارے کو درپیش خطرات معمول کے اقدامات سے حل نہیں ہو سکتے۔ ہر شعبہ زندگی کو ہنگامی بنیادوں پر پائیداری اپنانا ہوگی۔ جامعہ کراچی سیپا کے ساتھ مل کر گرین کیمپس، زیرو ویسٹ، ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی تعلیم کے مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ ماحولیاتی صحافت کو اپنا مشن بنائیں کیونکہ قلم ہی وہ ہتھیار ہے جو پالیسی سازوں کو بیدار کر سکتا ہے۔
قبل ازیں شعبہ ابلاغ عامہ کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر عصمت آرا نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تقریب کی تفصیلات بیان کیں اور سیپا سمیت تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب سے معروف ماحولیاتی ابلاغ کار عافیہ سلام، اسسٹنٹ پروفیسر ثمینہ قریشی، سینئر صحافی مانیا شکیل اور سعدیہ عبید خان نے بھی خطاب کیا اور شجرکاری کو ماحولیاتی جہاد قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی ڈی جی سیپا وقار حسین پھلپوٹو اور صدر محفل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے شجرکاری میں نمایاں کاکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فیکلٹی ممبران، نان ٹیچنگ عملے اور طلباء طالبات میں شیلڈز تقسیم کیں۔
شعبہ تعلقات عامہ، سیپا
Back