عالمی یوم ماحول پر سیپا اور شعبہ ابلاغ عامہ کا جامعہ کراچی میں مذاکرہ

عالمی یوم ماحول پر سیپا اور شعبہ ابلاغ عامہ کا جامعہ کراچی میں مذاکرہ

Posted on: 04 Jun 2025   Tags:

*پریس ریلیز*

*عالمی یوم ماحول پر سیپا اور شعبہ ابلاغ عامہ کا جامعہ کراچی میں مذاکرہ*

*15جون سے سندھ بھر میں ہر قسم کے پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی ہوگی۔آغا شاہنواز خان*

*درجہ حرارت میں اضافہ اگر فی الفور نہیں روکا گیا تو بہت پچھتانا پڑے گا: ڈاکٹر خالد عراقی*

*پلاسٹک بیگز پر پابندی میں کامیابی عوامی حمایت سے مشروط ہے۔وقارحسین پھلپوٹو*


کراچی: (پ ر)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور خاص طور پر پاکستان کے تناظر میں۔ موسمیاتی تبدیلی ایک فوری اور حل طلب مسئلہ ہے جسے پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں، سماجی کارکنوں اور طلباء کے ذریعہ حل کیا جانا ممکن ہے۔درجہ حرارت میں شدت اور تیزی سے ہونے والے اضافے کے باعث،گلیشیئرزکے پگھلنے اور بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن کی وجہ سے پانی کی دستیابی میں بھی تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے،اگرہم نے آج فیصلہ نہیں کیاتوعنقریب ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) اور شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کے اشتراک سے عالمی یوم ماحولیات کے مناسبت سے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ آگاہی سیمینار بعنوان: ”پلاسٹک کی آلودگی کو کم کرنا“ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہم یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں سنگل پلاسٹک بیگ استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان میں سے 98فیصد پلاسٹک بیگ بائیو ڈیگریڈیبل نہیں ہیں،انہیں ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا اور یہ آپ کے ماحول کو متاثر کرنے میں بہت سی پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں۔پلاسٹک کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ اس تک رسائی کو ختم کیاجائے،دوکانوں اور مارکیٹوں میں پلاسٹک کی عدم موجودگی سے پلاسٹک کو بتدریج کم بلکہ ختم کیاجاسکتاہے۔پلاسٹک کے استعمال اور اس کے ماحول اور انسانی صحت پر اثرات سے متعلق آگاہی کو فروغ دے کرپلاسٹک کے استعمال کو کم یا ترک کیاجاسکتاہے اور یہ آگاہی مستقل بنیادوں پر ہونی چاہیئے۔انہوں نے کہاکہ پلاسٹک کے استعمال کو کم یا ختم کرنے کے لئے اس کے متبادل کا آسانی سے دستیاب ہوناضروری ہے۔

سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ آغا شاہنواز خان نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے پلاسٹک پر پابندی لگانے کا فیصلہ مارچ کے آخر میں کیا گیا ہے جو 15 جون سے نافذ العمل ہوگی۔پلاسٹک شاپنگ بیگز نہ صرف ماحولیاتی خرابی بلکہ سیوریج نظام کی تباہی کا بھی باعث ہیں۔15 جون کے بعد پلاسٹک بیگز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا ہے اور کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ جیسے بڑے شہروں میں اس مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا کر اس پالیسی پر تفصیلی مشاورت کی گئی ہے تاکہ اس پر مؤثر عملدرآمدکو یقینی بنایا جا سکے۔ پلاسٹک آلودگی ایک عالمی ماحولیاتی چیلنج ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ 11 ملین ٹن پلاسٹک ماحول میں شامل ہو رہا ہے جو مٹی، پانی اور خوراک کو آلودہ کرتا ہے۔ہمیں ایک دائرہ جاتی معیشت اور ماحول دوست متبادل کو فروغ دینا ہوگا۔ پلاسٹک کے شاپنگ بیگزکے خلاف ہمیں سخت موقف اختیارکرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہم سب کو حکومت کا ساتھ دینے اور پلاسٹک بیگزکے خاتمے کے لئے اپنا اپنا کرداراداکرناچاہیئے اور اپنے خاندان اور آنے والی نسلوں کوماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی(سیپا) وقار حسین پھلپوٹونے کہا کہ 15 جون سے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی کے نفاذ کے ساتھ ساتھ بھرپور عوامی شعور مہم بھی چلائی جائے گی تاکہ عوام از خود پابندی پر عمل کریں۔ پہلا مرحلہ صنعتوں کو متبادل تیار کرنے کے لیے وقت دینا تھا اب پابندی کو صوبے بھر میں نافذ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے عوامی آگاہی، کمیونٹی انگیجمنٹ اور قانونی عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ہم اس صوبے کو پلاسٹک کی آلودگی سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ نہ صرف پلاسٹک بیگز بلکہ پلاسٹک بوتلوں کے استعمال کو بھی کم کرنا ہوگا۔سیپا ''نو پلاسٹک کیریئر بیگز'' پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ تمام شعبوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں کہ اس صوبے کو صاف، سرسبز اور پائیدار بنانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ڈی جی سیپا نے مزید کہا کہ ہمیں پلاسٹک کے شاپرز کی جگہ کپڑے کے تھیلے کو استعمال اور اس کو فروغ دینا ہوگا تاکہ پلاسٹک سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی اور اس کے انسانی صحت پر پڑنے والے مضر اثرات سے بچاجاسکے۔صنعتی نگرانی اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد اور پلاسٹک بیگز کا مکمل خاتمہ سیپا کی اولین ترجیح ہے،سیپاتواترکے ساتھ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم کا انعقاد کررہی ہے کیونکہ تعلیمی ادارے اور بالخصوص اعلیٰ تعلیمی ادارے آگاہی کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔
رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ ماحولیات صرف سائنس یا ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں ہے،یہ بنیادی طور پر ایک سماجی ذمہ داری ہے۔ اس میں کمیونٹیز کو تعلیم دینا، مقامی گروپوں کو بااختیار بنانا، اور نگہداشت کے کلچر کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہے جو نسلوں تک جاری رہتا ہے۔یہ مسئلہ افراد یا کسی ایک کمیونٹی تک محدود نہیں ہے،یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جو ہر معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ماحولیات کا عالمی دن ایک یاد دہانی ہے کہ ماحول کی حفاظت ہر کسی کی ذمہ داری ہے، خواہ ہمارا میدان کوئی بھی ہو۔ یہ ہمیں کارروائی کرنے اور ایک ایسے مستقبل کے لیے عہد کرنے کی دعوت دیتا ہے جہاں ترقی اور پائیداری ایک ساتھ چلتی ہے۔

جامعہ کراچی کے شعبہ جغرافیہ کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر جمیل حسن کاظمی نے کہا کہ بدقسمتی سے بعض اوقات حکومتی اداروں کی جانب سے فیصلے کرنا اور بالخصوص کراچی جیسے شہر میں بڑے تناظر میں اس کا نفاذ ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔یہ صرف پلاسٹک تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہم بغیر تحقیق کے مختلف قسم کے سجاوٹی درختوں کا انتخاب اور مختلف قسم کے ناگوار پودوں کی اقسام درآمد کرتے ہیں اور اسے اپنے شہر میں لگادیتے ہیں۔

صدرشعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر عصمت آراء نے کہاکہ پورے پاکستان اور بالخصوص سندھ وکراچی کے درجہ حرارت میں تواترکے ساتھ اضافہ ماحولیاتی تبدیلی کانتیجہ ہے جس کے لئے فی الفور اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی میں ہونے والی ماحول دوست سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ شعبہ ابلاغ عامہ نے اپنے حصے کے کام کا آغاز ڈبلیوڈبلیوایف کے تعاون سے جامعہ کراچی میں 4000 پودے لگاکرکردیا ہے۔

Back